کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی کی عدالت میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی سے متعلق اینٹی کرپشن کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی عمل اور ادائیگیوں کے طریقۂ کار پر اہم سوالات اٹھا دیے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی بھی منصوبے میں ادائیگی صرف پروجیکٹ ڈائریکٹر کے اکیلے دستخط سے ہوتی ہے؟ اور اگر تین یا چار افراد کے دستخط کے بعد پیمنٹ جاری ہوتی ہے تو دیگر ذمہ دار افراد کہاں ہیں؟ عدالت نے یہ سوال بھی کیا کہ کنٹریکٹر کہاں ہے؟
عدالت نے کیس میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے کہا کہ مزید تفتیش ضروری ہے۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے دفاع کا موقف سنے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف پہلے درج مقدمے کی ایف آئی آر کا جائزہ لیا جائے اور ملزم کو ضابطۂ فوجداری کی سیکشن 63 کے تحت ڈسچارج کیا جائے۔
وکیلِ صفائی نے کہا کہ اینٹی کرپشن کی کارروائی سوموٹو ایکشن کے تحت کی جا رہی ہے اور عدالت کے سامنے کوئی متاثرہ فریق موجود نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی یا ورلڈ بینک اس کیس میں شکایت کنندہ ہیں؟ اور کیا کسی شہری یا متعلقہ ادارے نے عدالت سے رجوع کیا ہے؟
وکیل نے مزید کہا کہ ضمیر عباسی گزشتہ 20 دن سے حراست میں ہیں، جبکہ اینٹی کرپشن کے قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اینٹی کرپشن کا ایک انسپکٹر خود شکایت کنندہ بھی ہے اور وہی تفتیشی افسر بھی مقرر ہے، جو قانوناً سوالیہ نشان ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ عام نوعیت کا کیس نہیں بلکہ اینٹی کرپشن کے خصوصی قانون کے تحت آتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ ایڈوانس ادائیگی کس نے کی اور دیگر ذمہ دار افراد کہاں ہیں؟ مزید برآں عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے اے سی سی ون کی منظوری سے متعلق بھی سوال اٹھایا۔
عدالت نے ملزم کے وکیل کو اطمینان سے دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔


