30

زی ہین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی مینیجنگ کمیٹی کے خلاف سنگین الزامات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)زی ہین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی مینیجنگ کمیٹی کے خلاف مبینہ جعلسازی، ریکارڈ میں رد و بدل، امانت میں خیانت اور دیگر سنگین الزامات پر درج مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تھانہ شاہراہِ نور جہاں میں درج ایف آئی آر نمبر 427/2023 کے بعد مقدمہ اینٹی کرپشن عدالت (پروونشل) کراچی میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ پولیس تفتیش مکمل ہونے کے بعد چالان بھی عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔

دستاویزی ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 465، 466، 467، 468، 471 اور 34 کے علاوہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) بھی شامل کی گئی ہے۔ مقدمے میں مینیجنگ کمیٹی کے ارکان پر مبینہ طور پر ریکارڈ میں رد و بدل، جعلی دستاویزات کی تیاری، جعلسازی اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران مینیجنگ کمیٹی کے متعدد نامزد ارکان عدالت میں پیش نہ ہونے پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت اشتہاری قرار دیے گئے، جس کے بعد ان کی طلبی کے اشتہارات قومی اخبارات میں شائع کیے گئے۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جانا ایک اہم قانونی پیش رفت ہوتی ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالت مطلوبہ افراد کی حاضری یقینی بنانا چاہتی ہے۔ اس مقدمے میں بھی ایف آئی آر، پولیس تفتیش، چالان اور عدالتی کارروائی کے بعد معاملہ اینٹی کرپشن عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اس کیس نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں شفافیت، ریکارڈ کے تحفظ اور ارکان کے حقوق کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ فریقین کا مطالبہ ہے کہ مقدمے کی شفاف اور میرٹ پر سماعت مکمل کر کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

نوٹ: یہ خبر دستیاب ایف آئی آر، پولیس چالان اور عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے، اس لیے الزامات کا حتمی فیصلہ مجاز عدالت کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں