19

اسکیم 33 میں 8 ایکڑ قیمتی اراضی پر مبینہ قبضہ،ایس ایس پی کراچی ایسٹ کے خلاف محکمانہ کارروائی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) اسکیم 33 سیکٹر 17B میں آباد کے ایک رکن کی 8 ایکڑ قیمتی اراضی پر مبینہ قبضے کے معاملے میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر ایس ایس پی کراچی ایسٹ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہے۔

ملیر کورٹ کے سینئر سول جج نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سندھ کو ارسال کر دی ہے۔ عدالتی رپورٹ کے مطابق 19 مئی 2026 کو عدالت نے اسکیم 33 کی متنازع اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا تھا اور پولیس کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 جون 2026 کو ناظرِ عدالت، پولیس اور ریونیو حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے موقع پر پہنچے تو مبینہ قابضین نے فائرنگ اور شدید مزاحمت کی۔ واقعے سے متعلق ناظرِ عدالت کی درخواست کے باوجود تھانہ سچل میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

عدالت نے ایس ایس پی کراچی ایسٹ اور ایس ایچ او سچل کو دوبارہ اراضی واگزار کرانے کے لیے قانونی کارروائی کا حکم دیا، تاہم پولیس کی جانب سے نہ مؤثر کارروائی کی گئی اور نہ ہی عدالت میں کوئی تسلی بخش رپورٹ پیش کی گئی۔

عدالتی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کراچی ایسٹ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور فرائض میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔ عدالت نے ایس ایس پی زبیر نذیر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے 7 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں