22

پیٹرولیم مصنوعات کیس، کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم،

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) کسٹم حکام کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات سے منسلک نجی کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے معاملے میں عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا ہے اور ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک درخواست گزاروں کو واپس کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

یہ تحریری فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق کسٹمز حکام نے ان کے مؤکلان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ تمام لین دین سرکاری نیلامی اور قانونی ادائیگیوں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے۔

دوسری جانب کسٹمز حکام کا کہنا تھا کہ کیماڑی کے علاقے میں دو آئل ٹینکرز کو روکتے ہوئے تلاشی لی گئی، جہاں ڈرائیوروں نے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ سرکاری وکیل کے مطابق درخواست گزار کمپنی غیر قانونی پیٹرولیم کی خرید و فروخت میں ملوث تھی اور فوری کارروائی کے باعث سرچ وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمہ درج کرنے میں چار روز کی تاخیر کی گئی اور ایف آئی آر میں جرم کی تاریخ اور وقت جیسے بنیادی تقاضے درج نہیں تھے۔ عدالت کے مطابق کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی ہے اور صرف ہنگامی حالات میں بغیر وارنٹ محدود کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹینکرز کی ضبطگی کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کیے جا سکتے تھے، مگر بعد کی کارروائیوں کے لیے کسٹمز حکام نے مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا، جس سے پوری قانونی کارروائی مشکوک ہو گئی۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ڈلیوری آرڈر جاری کرنے والے اداروں کے افسران کے بیانات بھی قلمبند نہیں کیے گئے۔

عدالت کے مطابق بادی النظر میں درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات قانونی ثابت ہوتی ہیں اور کسٹمز حکام پیٹرولیم مصنوعات کے غیر قانونی ذرائع سے حصول کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ فیصلے میں زور دیا گیا کہ سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیارات قانون کے مطابق استعمال کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ کسٹمز حکام فوری طور پر ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی تمام املاک درخواست گزاروں کے حوالے کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں