4

کراچی کے لیے بجٹ میں صرف 100 ارب روپے رکھنا شہر سے دشمنی ہے، پی ٹی آئی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)Pakistan Tehreek-i-Insaf Karachi Division کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے سندھ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 18 برسوں کے دوران محکمہ بلدیات میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں، کرپشن اور فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں فوزیہ صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت کے ترقیاتی دعوے زمینی حقائق سے یکسر متصادم ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سندھ کی سڑکیں واقعی درست حالت میں ہیں تو شہری روزانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں پر سفر کیوں کر رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے صرف 100 ارب روپے مختص کرنا ملک کے سب سے بڑے شہر کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں خستہ حال سڑکیں، ابلتے نالے اور ناقص سیوریج نظام حکومتی دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ عوام کو اب بیانات کے ذریعے گمراہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ شہری انفراسٹرکچر کی خراب حالت سب کے سامنے ہے۔ اگرچہ سندھ کے بجٹ میں بلدیاتی شعبے کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہری صاف پانی، بہتر سڑکوں، مؤثر نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے سوال کیا کہ گزشتہ 18 سال کے دوران بلدیاتی اداروں کو دیے گئے 2360 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ اگر یہ خطیر رقم واقعی عوامی فلاح پر استعمال ہوئی ہے تو سندھ کے شہر آج بھی بنیادی ڈھانچے کی تباہ حالی کا شکار کیوں ہیں؟

انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹھٹھہ سے مٹھی تک 750 آر او پلانٹس کے منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سامنے آچکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مٹھی میں ایشیا کے سب سے بڑے آر او پلانٹ کے غیر فعال ہونے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سولر انرجی پروگرام میں بھی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ سندھ کے ہر ٹاؤن کو ماہانہ کروڑوں روپے کا بجٹ ملتا ہے، مگر عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اگر تمام سڑکیں درست ہیں تو شہری ٹوٹی سڑکوں، گندگی اور سیوریج کے مسائل کا شکار کیوں ہیں؟

انہوں نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی نااہلی کے باعث کراچی بنیادی سہولتوں سے محروم ہو چکا ہے اور معمولی بارش بھی سڑکوں کو تالاب اور گلیوں کو جوہڑ بنا دیتی ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ کراچی کے عوام کو بیانات نہیں بلکہ صاف سڑکیں، بہتر نکاسی آب، پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں درکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت بلدیاتی فنڈز، آر او پلانٹس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے اور تمام مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائے، کیونکہ اب عوام دعوؤں کے بجائے کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں