کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے سندھ حکومت کے بجٹ اور بلدیاتی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے صرف 100 ارب روپے رکھنا شہر کے ساتھ کھلی دشمنی ہے، جبکہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی مکمل نفی کرتے ہیں۔
پریس ریلیز (28 جون 2026) میں فوزیہ صدیقی نے محکمہ بلدیات سندھ میں گزشتہ 18 سال کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، کرپشن اور اربوں روپے کے بجٹ کی بندر بانٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ کی ایک بھی سڑک ٹوٹی نہیں تو شہری روزانہ کن کھنڈرات نما سڑکوں پر سفر کر رہے ہیں؟ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، ابلتے نالے اور ناقص سیوریج نظام حکومتی دعوؤں کے برعکس حقیقت بیان کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں بلدیات کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے، مگر عوام آج بھی صاف پانی، بہتر سڑکوں، نکاسی آب اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 18 سال میں بلدیاتی اداروں کو ملنے والے 2360 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ اگر یہ رقم عوامی فلاح پر لگی تو سندھ کے شہر آج بھی بنیادی ڈھانچے کی تباہ حالی کا شکار کیوں ہیں؟
فوزیہ صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ٹھٹھہ سے مٹھی تک 750 آر او پلانٹس کے منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سامنے آچکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مٹھی میں ایشیا کا سب سے بڑا آر او پلانٹ بند کیوں ہے اور سندھ حکومت اس کی وضاحت کیوں نہیں کر رہی؟ اسی طرح سولر انرجی پروگرام میں بھی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے ہر ٹاؤن کو کروڑوں روپے ماہانہ بجٹ ملتا ہے، مگر عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اگر تمام سڑکیں درست ہیں تو شہری ٹوٹ پھوٹ، گندگی اور سیوریج کے مسائل کا شکار کیوں ہیں؟ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ شرجیل انعام میمن کو شاید گڑھے بھی ترقی کی علامت نظر آتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ترجمان پی ٹی آئی کراچی نے مزید کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی نااہلی کے باعث کراچی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور بارش ہوتے ہی سڑکیں تالاب جبکہ گلیاں جوہڑ بن جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کو بیانات نہیں بلکہ صاف سڑکیں، بہتر نکاسی آب، پینے کا صاف پانی اور بنیادی سہولتیں درکار ہیں۔
آخر میں فوزیہ صدیقی نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت بلدیاتی فنڈز، آر او پلانٹس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے اور تمام مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائے، کیونکہ سندھ کے عوام اب دعوؤں نہیں بلکہ کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔


