مقدس ہستیوں کی توہین اور مقدس تبرکات کی بے حرمتی برداشت کرنے کی بجائے ایسی حرکات کا بھرپور جواب دیا جائے گا

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) مقدس ہستیوں کی توہین اور مقدس تبرکات کی بے حرمتی برداشت کرنے کی بجائے ایسی حرکات کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ہماری شرافت اور امن پسندی کو کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار تحریکِ نفاذِ فقہء جعفریہ صوبہ سندھ کے صوبائی نائب صدر زوار صائم علی جعفری، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مخدوم قادر کربلائی، حیدرآباد ڈویزن کے صدر میر عاصم تالپور، حیدرآباد ڈویزن کے سینئر نائب صدر علی رضا قریشی، ضلع حیدرآباد کے صدر بابر لاشاری، ضلع دادو کے صدر سید صفدر علی شاہ لکیاری اور مختار آرگنائیزیشن سندھ کے صدر بلال جمالی نے اپنے جاری کردہ مشترکہ پریس بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بئنچ حیدرآباد کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کے بعد محکمہء اوقاف حکومتِ سندھ کی جانب سے معصومہء سندھ بیبی ماہم سلام اللہ علیہا کے روضہء اطہر کے شروع کروائے گئے سرکاری تعمیراتی کام کو پٹیشنر غلام رسول قریشی و دیگر کی جانب سے رکوانے کی کوشش اور علاقہ میں فرقیوارانہ کشیدگی پیدا کروانے کے لئے یہ کوئی پہلی حرکت نہیں ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز بی بی پاک کے روضہء اطہر پر ایک مذہبی جماعت سے احتجاجی مظاہرہ کرواکر اشتعال انگیز نعرے بازی کروانے، کھلے عام دھمکیاں دینے اور مسجد میں رکھے ہوئے مقدس تبرکات کی بے حرمتی کی جو قابلِ مذمت اور انتہائی افسوسناک و شرمناک عمل ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے سندھ حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے کہ ان ہی لوگوں نے عیدالفطر کے روز بھی بی بی پاک کے مزار اقدس پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی تھی جس کی گلاب لغاری پولیس اسٹیشن پر ایف آئی آر بھی درج ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، ضلعی انتظامیہ بدین اور جملہ سیکیورٹی اداروں سے مذہبی فرقیوارانہ کشیدگی پھیلانے کے لئے کی جانے والی ان شرپسندانہ حرکات کا فی الفور نوٹس لے کر ایسے امن دشمن افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کی شیعہ و عزادار تنظیموں کو اس سلسلہ میں بھرپور آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں