زبان میں تاثیر بولنے سے نہیں عمل سے آتی ہے، علامہ الیاس قادری

کراچی ( ایچ آراین ڈبلیو) امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ نصیحت میں اثر اُس وقت آتا ہے جب نصیحت کرنے والا خود باعمل ہو، صرف بات کرنے سے نہیں بلکہ عمل سے زبان میں تاثیر آتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اندازِ گفتگو بھی اہم ہے، بعض اوقات بات بالکل درست ہوتی ہے لیکن لہجہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ سننے والا بددل ہو جاتا ہے اور نصیحت کا اثر ختم ہو جاتا ہے، لہذا اگر کسی کو راہِ راست پر لانا ہو تو نرمی، محبت اور خوش اخلاقی سے سمجھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے، یہی تاثیر ہے، نرمی، پیار اور خندہ پیشانی سے بات کی جائے تو دلوں میں اتر جاتی ہے، جبکہ سختی اور تلخی سے چاہے دل میں جگہ ہو بھی تو وہ نکل جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ امیر اہل سنت نے اگر کسی کو جارحانہ انداز میں خاموش ہونے کا کہا جائے تو وہ بظاہر خاموش تو ہو جائے گا، لیکن دل سے ناراض اور متنفر ہو جائے گا، ایسے سخت لہجے میں بات کرنے والے سے وہ دور بھی ہو جائے گا، اس کے برعکس اگر محبت اور نرمی سے خاموش کرایا جائے تو دل بھی جیتا جا سکتا ہے اور کسی قسم کی دوری یا بدگمانی بھی پیدا نہیں ہوتی، اس لیے ہمیں چاہئےکہ لوگوں سے گفتگو کا انداز نرم رکھیں تاکہ دلوں میں ہماری بات اترے اور تعلقات خراب نہ ہوں۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ قرآن و وظائف کی درست ادائیگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ پاک اور وظائف پڑھنے میں صحیح تلفظ اور قواعد کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے، غلطی سے پڑھنے سے معانی بدل سکتے ہیں اور بسا اوقات بات کا مطلب ہی کچھ اور ہو جاتا ہے،افسوس دنیا کے دیگر کاموں میں مہارت رکھنے والے بہت سے لوگ درست نماز اور قرآن پڑھنا نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ نماز اور قرآن کو خود سے درست سمجھنے کے بجائے اہلِ علم (علماء یا قاری حضرات) سے چیک کروائیں تاکہ اصلاح ہو سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں