**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** وزیراعلیٰ سندھ **سید مراد علی شاہ** نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے حتمی فیصلہ دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ برداشت کیا جا سکتا ہے۔
مراد علی شاہ نے صوبائی حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ریکارڈ مدت میں چھ بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے ماضی کی وفاقی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ اور کراچی کے عوام اب اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں وفاق کی جانب سے بڑے مالی وعدے کیے گئے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے **64 ارب روپے** مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید اعلان کیا کہ **حیدرآباد-سکھر موٹروے** منصوبے پر تعمیراتی کام آئندہ سال جنوری میں شروع ہونے کا امکان ہے اور اسے تقریباً ساڑھے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔
پانی کی قلت کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس وقت اپنے حصے کے پانی میں **41 فیصد کمی** کا سامنا ہے، جس پر وفاقی حکومت کو احتجاجی خط بھی ارسال کیا گیا ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حتمی فیصلہ بجٹ کی تیاری کے دوران مالی گنجائش کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
—
### حمایت کی اپیل
عوامی مفاد، شفاف طرزِ حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)
یہ خبر وزیراعلیٰ سندھ کے عوامی بیان اور پریس کانفرنس پر مبنی ہے۔ بجٹ، تنخواہوں میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق حتمی فیصلے سرکاری بجٹ دستاویزات اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوں گے۔ HRNW غیر جانبدار، متوازن اور ذمہ دار رپورٹنگ کے اصولوں پر کاربند ہے۔


