7

نیو کراچی سیکٹر 11-F میں 36 انچ قطرسیوریج لائن15 دن سے ٹوٹی ہوئی ہے،گندے پانی سے شہری شدید مشکلات کا شکار

کراچی ( ایچ آراین ڈبلیو)نیو کراچی ٹاؤن کے سیکٹر-F 11 میں 36 انچ قطر کی مرکزی سیوریج لائن گزشتہ 15 روز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث علاقے کی گلیوں، سڑکوں اور متعدد گھروں میںگندا پانی داخل ہو چکا ہے۔ سنگین صورتحال کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔چیئرمین نیو کراچی ٹا¶ن محمد یوسف نے اس صورتحال پر واٹر اینڈ سیوریج بورڈکارپوریشن کی مبینہ غفلت اور بے حسی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ متعدد بارشکایات کے باوجود متعلقہ افسران مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں سے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کارپوریشن کی جانب سے ٹال مٹول اور بہانے بازی سے کام لیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ علاقے کے مکین مسلسل مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔محمد یوسف کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم مسلسل متاثرہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں اور شہریوں کے مسائل سے آگاہ ہیں، تاہم واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا انتظامی اختیار ٹا¶ن کے پاس نہیں، جس کی وجہ سے وہ متعلقہ افسران کو عملی اقدامات پر مجبور نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ ادارے کے متعلقہ افسران جن میں ایکسین ماجد بخاری اور انجینئر شاہ رخ خان شامل ہیں، بار بار شکایات کے باوجود مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے بقول 15 دن گزرنے کے باوجود مرمت کے کام کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں کیا گیا۔چیئرمین نیو کراچی ٹا¶ن نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن براہِ راست میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ادارہ ہے، اس لیے شہریوں کو درپیش مشکلات کی ذمہ داری بھی متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے کے لیے مختص بجٹ کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب شہری شکایات لے کر متعلقہ دفتر جاتے ہیں تو انہیں ٹا¶ن انتظامیہ کے پاس بھیج دیا جاتا ہے، حالانکہ واٹر اینڈ سیوریج کے معاملات کا اختیار ٹا¶ن کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق ٹا¶ن انتظامیہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن متعلقہ ادارے کے تعاون کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔محمد یوسف نے مطالبہ کیا کہ ایکسین ماجد بخاری اور انجینئر شاہ رخ خان کو فوری طور پر معطل کرکے ان کی جگہ ایسے افسران تعینات کیے جائیں جو عملی طور پر کام کریں اور متاثرہ علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے انتظامی اختیارات ٹا¶ن کے حوالے کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر فوری فیصلے اور م¶ثر اقدامات ممکن ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ٹا¶ن کے فنڈز سے تقریباً 10 کروڑ روپے واٹر اینڈ سیوریج سے متعلق مختلف کاموں پر خرچ کر چکے ہیں، اس کے باوجود بنیادی مسائل برقرار ہیں۔چیئرمین نیو کراچی ٹا¶ن نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سیکٹر 11-F میں ٹوٹی ہوئی مرکزی سیوریج لائن کی فوری مرمت کی جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو اور معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں