9

اسلام آباد: پولیس اہلکار بن کر مویشی بیوپاریوں سے 18 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے، مقدمہ درج

**اسلام آباد ( ایچ آر این ڈبلیو):** وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ نون کی حدود میں پولیس اہلکاروں کا روپ دھارنے والے نامعلوم افراد نے مویشی منڈی سے جانور فروخت کر کے واپس جانے والے بیوپاریوں کو 18 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے محروم کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

پولیس کو دی گئی درخواست میں مدعی **غلام حسین ولد امام بخش**، سکنہ ضلع بھکر (حال مقیم راولپنڈی) نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے کزن محمد شریف، بھائی محمد صدیق اور بیٹے محمد سعد کے ہمراہ بھارہ کہو مویشی منڈی میں جانور فروخت کرنے آئے تھے۔ 26 مئی 2026 کو جانور فروخت کرنے کے بعد وہ چشتی آباد اسٹاپ پر موجود تھے۔ اس دوران ان کے بیٹے کے پاس ایک بیگ میں 17 لاکھ روپے جبکہ کزن محمد شریف کے پاس ایک لاکھ روپے موجود تھے، یوں ان کے پاس مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے کی رقم تھی۔

مدعی کے مطابق اسی دوران ایک پیدل شخص ان کے پاس آیا اور زمین پر پڑے ہوئے چند نوٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ شاید یہ آپ کے پیسے ہیں، تاہم انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک سفید رنگ کی کار، جو بظاہر کرولا معلوم ہوتی تھی، وہاں آکر رکی۔ گاڑی سے اترنے والے ایک شخص نے سر پر پولیس جیسی ٹوپی پہن رکھی تھی اور خود کو سب انسپکٹر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس اہلکار ہے۔

شکایت کے مطابق مذکورہ شخص نے بیوپاریوں کو ڈرا دھمکا کر ایک جانب ہونے کا کہا۔ اسی دوران گاڑی میں موجود مزید تین افراد بھی باہر نکل آئے اور تلاشی کے بہانے بیوپاریوں سے رقم سے بھرا بیگ اور نقد رقم چھین لی۔ ملزمان مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ بیوپاریوں نے پولیس سے رجوع کیا جس پر تھانہ ترنول پولیس نے مقدمہ نمبر 273/26 درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں ملزمان کے خلاف **دفعہ 382 (چوری کی نیت سے نقصان یا روک تھام کی تیاری)، دفعہ 420 (دھوکہ دہی)، دفعہ 170 (سرکاری ملازم کا روپ دھارنا) اور دفعہ 171 (سرکاری وردی یا سرکاری شناخت کے ناجائز استعمال)** کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق کیس کی تفتیش **اے ایس آئی عمران بشارت** کے سپرد کر دی گئی ہے، جو ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

**اپیل برائے تعاون**

انصاف، انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور جرائم سے متاثرہ شہریوں کی آواز کو اجاگر کرنے کے لیے **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ آپ کا تعاون آزاد، ذمہ دار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

**تعاون کے لیے وزٹ کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**اہم ہدایت (Important Note):**

یہ خبر مدعی کے بیان، ایف آئی آر اور ابتدائی پولیس معلومات پر مبنی ہے۔ مقدمے میں نامزد یا مشتبہ افراد کے خلاف الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین عدالت اور تفتیشی عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔ HRNW ذمہ دارانہ، متوازن اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں