8

کراچی: زمینوں کے ریکارڈ میں مبینہ ہیر پھیر، نیب متحرک، انکوائری تیز

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** ملیر کے علاقے میں زمینوں کے ریکارڈ میں مبینہ ہیر پھیر اور کرپشن کے الزامات پر نیب کراچی نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے انکوائری مزید تیز کر دی ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق سابق ڈپٹی کمشنر **محمد علی شاہ** سمیت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تعلقہ مراد میمن، ضلع ملیر میں زمینوں کے **117 اندراجات** نیب کی نگرانی میں آ گئے ہیں۔

نیب نے مختار کار مراد میمن کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ زمینوں کا مکمل ریکارڈ **7 مئی 2026 تک** پیش کیا جائے۔

تحقیقات میں سابق ڈپٹی کمشنر، سیکشن آفیسر **عماد الدین چاچڑ**، اے جی مجید اور **خالد یوسفی** سمیت دیگر افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نیب نے زمینوں کے الاٹمنٹ لیٹرز، لیز کی مدت اور خریداروں کے شناختی کارڈز سمیت مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں، جبکہ ریونیو افسران اور دستخط کنندگان کے ریکارڈ کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق دیہہ ٹور، دیہہ تھاڈو اور دیہہ کھارکھارو میں سینکڑوں ایکڑ اراضی کی مبینہ ٹرانسفر کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو منتقل کی گئی **1000 ایکڑ سے زائد زمین** کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

نیب نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت پر ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں **نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی**۔

### حمایت کی اپیل

بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)

یہ خبر نیب کے ابتدائی تفتیشی ذرائع اور مراسلوں پر مبنی ہے۔ حتمی نتائج مکمل تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کے اصولوں پر کاربند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں