4

سرسید یونیورسٹی میں یوتھ مشاعرہ کا انعقاد

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ لٹریری آرٹ اینڈ کلچر فورم نے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے تعاون سے نوجوانوں کے لئے ایک شاندار بزمِ شعر و سخن کا انعقاد کیا جس میں معروف شعراء کے علاوہ نوجوان طلباء و طالبات نے بھی اپنا کلا م پیش کیا۔یہ یوتھ مشاعرہ نہ صرف شاعری کی خوبصورتی کا مظہر تھا بلکہ اس نے نوجوانوں کو اپنے تخلیقی اظہار کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔
صدرِ محفل، سرسیدیونیورسٹی کے چانسلرمحمد اکبر علی خان نے مشاعرے میں پیش کی گئی تخلیقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادبی محفلیں سماجی تہذیب و ثقافت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔یہ محفلیں نوجوانوں کو ایک ایسا موثر اور وسیع پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں جہاں وہ مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا شعری اظہار کرسکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ آج کی اس محفل میں شعراء نے بہت خوبصورت کلا م پیش کیا اور ہمیں دل کو مسحور کردینے والی شاعری سننے کا موقع ملا۔ ادبی سرگرمیاں طلبہ کی ذہنی نشوونما اور معاشرتی شعور کو فروغ دیتی ہیں اور ادبی تقریبات کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے۔۔ تاکہ ایک صحت مند، مثبت اور روشن خیال معاشرہ تشکیل پاسکے۔۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی نے اس موقع پر طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ غیرنصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے باوجود اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ کیریئر کو ترجیح دیں۔
معروف شاعر و اینکر وجیہہ ثانی نے بطورِ خاص اس محفل میں شرکت کی اور اپنی خوبصورت شاعری سے لوگوں کے دل موہ لیے۔ دیگر شعراء جنہوں نے اس شعر و سخن کی محفل کو رونق بخشی اور اپنے کلام سے حاضرین کو متاثر کیا، ان میں نعیم سمیر، ابراہیم خلیل، ڈاکٹر ولیج حیدر اور رخشندہ خان شامل تھے۔ان نامور شعراء کے کلام نے اردو ادب کی وسعت اور جمالیات کو نمایاں کیا۔اس موقع پر اسٹوڈنٹس افیئرز کے ڈائریکٹر حسن ذکی نے اردو کے ممتاز شعراء کے چند منتخب اشعار سنا کربے پناہ داد وصول کی۔مزید برآں، جن طلباء نے اپنی شاعری سے لوگوں کو محظوظ کیا ان میں عائشہ جہانزیب، احمد رضوان، عمار جعفری، فیضان شیخ، عاصم ملک، سارہ منصور، نرگس فاطمہ و دیگر شامل تھے۔
لٹریری آرٹ اینڈ کلچر فورم کے کنوینر طارق سبزواری نے نوجوان شعراء کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان شعراء کی شاعری حقیقت سے قریب تر اور بہت متاثر کن ہے۔ان کا اسلوب، خیال اور تخلیقی اظہار قابلِ ستائش ہے۔حاضرین محفل کی پُرزور فرمائش پر انھوں نے ترنم کے ساتھ اپنے چند اشعار سنائے، جس پر انھیں بے پناہ داد حاصل ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں