کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سانحہ بلدیہ فیکٹری پاکستان کی تاریخ کا بدترین صنعتی سانحہ قرار دیا جاتا ہے جو 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں پیش آیا۔ اس اندوہناک واقعے میں 259 سے زائد مزدور فیکٹری کے اندر زندہ جل گئے یا دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے، جبکہ 59 مزدور زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی تھی، جس نے اس سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سزائے موت پانے والے رحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد کیس ایک بار پھر ملکی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
فیصلے کے بعد جاں بحق مزدوروں کے لواحقین میں مایوسی اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے انصاف کے منتظر تھے، مگر اس فیصلے نے ان کے زخم مزید گہرے کر دیے ہیں۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کے اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کا اعادہ نہ ہو۔


