کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ہل پارک کے اطراف غیرقانونی تعمیرات کے معاملے پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ لینڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان کو معطل کر دیا گیا جب کہ بلدیہ اور جمشید ٹاؤن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ کیجانب سے پلاٹ نمبر 39 جی فور کی کنڈیشنل این اوسی جاری کی گئی تھی۔ افسر کے خلاف کارروائی سے متعلق سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
ہل پارک تجاوزات انکوائری کے حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پیش کیا گیا پلاٹ اصل لے آؤٹ پلان میں موجود ہی نہیں ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک پر تعمیرات کرنے والے نے پی ای سی ایچ ایس کی لیز دستاویزات پیش کیں۔
اصل لے آؤٹ پلان کے مطابق متنازع پلاٹ نمبر کا کوئی وجود ہی نہیں، 1974کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس پارک کا مجموعی رقبہ تقریباً56ایکڑ پر مشتمل ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کےایم سی نے پارک کی اراضی کبھی کسی فرد یا ادارے کو الاٹ نہیں کی، اراضی کے تعین اور حقائق جاننے کیلئے کے ایم سی نے باقاعدہ لینڈ سروے شروع کردیا۔
میئر کراچی نے متنبہ کیا کہ اگر پی ای سی ایچ ایس نے لےآؤٹ پلان کی خلاف ورزی کی توسخت کارروائی ہوگی، ہل پارک کی زمین پر قبضہ یا غیرقانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کے ایم سی ہل پارک کی اراضی کے تحفظ کیلئے ہرقانونی اور انتظامی اقدام اٹھائے گی، پارک کی اراضی سے متعلق تمام حقائق سامنے لانے کیلئے انکوائری اور سروے جاری ہے۔


