6

کراچی: ناظم آباد 5A-4/33 میں مبینہ غیر قانونی کمرشلائزیشن، ایس بی سی اے نوٹوں کی مشین بن گئی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – کراچی کے علاقے ناظم آباد 5A-4/33 میں ایک رہائشی عمارت میں مبینہ طور پر غیر قانونی کمرشل دکانیں قائم کیے جانے اور وہاں جاری تعمیراتی سرگرمیوں پر علاقہ مکینوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نہ صرف پارکنگ کے شدید مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر ناجائز قبضوں کے باعث پیدل چلنے والے افراد بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ بعض دکانداروں نے فٹ پاتھ کا تجارتی استعمال شروع کر دیا ہے جس سے عوامی راستے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ بلڈر مافیا اور بعض بااثر عناصر بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی پلاٹس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے کے پہلے سے دباؤ کا شکار بنیادی انفراسٹرکچر، ٹریفک کی روانی اور پارکنگ کے نظام پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم اور دیگر تمام متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد 5A-4/33 سمیت پورے علاقے میں جاری اس مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کا فوری طور پر سخت نوٹس لیا جائے، متعلقہ تعمیراتی منظوریوں اور منظور شدہ نقشوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے اور اگر کسی بھی سطح پر قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار بااثر افراد اور بلڈرز کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**

دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں