کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوام کے ساتھ مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایران۔امریکہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو جواز بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کیا، جبکہ اس کے ساتھ پٹرول لیوی کی مد میں 122 روپے کا بھاری اور ظالمانہ ٹیکس بھی عوام پر مسلط کیا گیا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے اب محض 22 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جبکہ پٹرول لیوی بدستور برقرار ہے۔ اس معمولی کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتاہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوتی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں خوراک، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاءکی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام سے خوشیاں چھین لی ہیں اور عام شہری کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے۔ دوسری جانب فارم 47 کی شریف حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں پیسے کمانے کی مشین سمجھتے ہوئے مسلسل نئے ٹیکس عائد کر رہی ہے، جس سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔امیر جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف 22 روپے کی کمی پر اکتفا نہ کرے بلکہ پٹرول لیوی کی مد میں وصول کیے جانے والے 122 روپے کے ظالمانہ ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے اور مہنگائی کے بوجھ میں کمی آئے۔#
4


