8

کراچی: سچل انڈس فلیٹس میں ‘سندھی کارڈ’ کی آڑ میں جائیداد پر قبضے کی مبینہ سازش بے نقاب، پولیس اور مشتاق سرکی کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور سچل کے گردونواح میں واقع “سچل انڈس فلائٹس” (بسم اللہ ٹیرس) میں عید الاضحیٰ کے جانوروں کی آڑ میں ہونے والے ایک معمولی تنازع کو لسانی رنگ دے کر معصوم شہریوں کو ہراساں کرنے اور ان کی املاک پر قبضہ کرنے کا ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھی قومیت کا لبادہ اوڑھ کر جائیداد کے تنازعات میں اسٹریٹ پاور فراہم کرنے والے مشتاق سرکی اور پولیس کی چند کالی بھیڑیں مل کر پرامن شہریوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہیں۔

شہریوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق اس مبینہ قبضے اور بدنیتی پر مبنی کھیل کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

### معمولی جھگڑے کو سنگین رنگ دینا اور ایف آئی آر (FIR) کا اندراج

* **ایف آئی آر نمبر 858/26:** سچل تھانے میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر کے تحت ایک معمولی پارکنگ اور چوکیدار کے کمرے کے پاس جانور باندھنے کے تنازع کو بنیاد بنایا گیا۔
* **دفعہ 452 کا ناجائز استعمال:** مقدمے کو ناقابلِ ضمانت اور سنگین بنانے کے لیے مدعی (جو خود ایک سندھی پولیس افسر ‘محمد خان بوہڑ’ بتایا جاتا ہے) نے یہ کہانی گھڑی کہ ملزمان فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے، تاکہ اصل رہائشیوں کو جیل بھیج کر پیچھے سے فلیٹ پر قبضہ جمایا جا سکے۔

### پولیس گٹھ جوڑ اور بدنیتی کے واضح ثبوت

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس پورے کیس میں پولیس کی جانبداری اور بدنیتی کے ۵ بڑے ثبوت سامنے آئے ہیں:

1. **تفتیش کا سیکنڈوں میں CIA منتقل ہونا:** کراچی پولیس کی تاریخ کا یہ ایک مشکوک ترین واقعہ ہے جہاں گلی محلے کی لڑائی کی تفتیش سچل تھانے سے چھین کر فوری طور پر **سی آئی اے (CIA) سہراب گوٹھ** کے حوالے کر دی گئی۔ ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کی جانب سے اس کیس کی فوری منتقلی ثابت کرتی ہے کہ مخالفین کو کچلنے کے لیے مدعی کے اثر و رسوخ کا استعمال کیا گیا۔
2. **خواتین کو نامزد کرنے کی غلیظ حکمتِ عملی:** مقدمے کو بھاری کرنے کے لیے گھر کے مردوں کے ساتھ ساتھ ۴ خواتین (بشمول سلمیٰ اور تین نامعلوم مستورات) کو بھی لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر حملہ کرنے کے الزام میں نامزد کیا گیا ہے، تاکہ پورے خاندان کو ذہنی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔
3. **ولدیت ‘نامعلوم’ رکھ کر بلیک میلنگ کا رستہ کھولنا:** مدعی کے مطابق وہ ملزمان کو جانتا ہے لیکن ایف آئی آر میں سب کی ولدیت “نامعلوم” رکھی گئی ہے تاکہ تفتیش کے دوران قبضہ گروپ اور پولیس اپنی مرضی سے عمارت کے کسی بھی معصوم شہری یا چوکیدار کو گرفتار کر کے بلیک میل کر سکیں۔
4. **مشتاق سرکی کا شرمناک کردار:** سوشل میڈیا پر پیڈ مہم کے ذریعے اس واقعے کو “سندھی بمقابلہ دیگر” کا رنگ دے کر مشتاق سرکی کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق مشتاق سرکی کا ڈی آئی جی کو بائی پاس کر کے براہِ راست ڈی ایس پی سے گٹھ جوڑ کرنا ان کے قبضہ مافیا کے سہولت کار ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

### شہریوں کا شدید احتجاج اور اعلیٰ حکام سے مداخلت کا مطالبہ

اس ننگے قانون کی پامالی اور لسانی تفریق پھیلانے کی کوشش پر سچل کے تمام رہائشیوں میں شدید عدم تحفظ اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سول سوسائٹی اور متاثرہ شہریوں نے **آئی جی سندھ** اور **ایڈیشنل آئی جی کراچی** سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

* اس بوگس اور یکطرفہ ایف آئی آر کو فوری خارج کیا جائے۔
* کیس کی سی آئی اے منتقلی کے احکامات کو منسوخ کر کے ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کے خلاف سخت انکوائری بٹھائی جائے۔
* مشتاق سرکی جیسے لسانی تفریق پھیلانے والے اور قبضہ مافیا کے سہولت کاروں کو فی الفور گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے تاکہ عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے بنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں