سچ بولنے کی سزا، صحافی یونس راجڑ کی حاملہ اہلیہ قتل

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) سچ بولنے کی سزا، صحافی یونس راجڑ کی حاملہ اہلیہ قتل، دس سالہ بیٹا زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف،حق گوئی کے چراغ کو بجھانے کی سازش.
یہ صرف ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں تھا، یہ صرف ایک خاتون کا قتل نہیں تھا، یہ ایک پورے خاندان، ایک خواب، ایک سچ کی صدا کا گلا گھونٹنے کی کوشش تھی، یونس راجڑ، ایک ایسا نام جس نے قلم کو تلوار بنا کر آکڑا پرچی، جوا، منشیات اور ظلم کے خلاف لڑائی لڑی. آج اس کی دنیا اجاڑ دی گئی، قاتلوں نے اس وقت گولی چلائی جب یونس راجڑ کی اہلیہ امید سے تھیں. ایک ماں، ایک ہونے والی جان، دونوں کو اس لیے مار دیا گیا کہ وہ ایک حق گو انسان کی شریکِ حیات تھیں۔ ان کا 10 سالہ بیٹا، جس نے ابھی زندگی کی خوبصورتی دیکھی ہی نہیں، اسپتال میں زندگی کی آخری سانسوں سے لڑ رہا ہے. یہ کیسی دنیا ہے جہاں سچ بولنے والے کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے. آج یونس راجڑ انصاف کا نہیں، انسانیت کا مقدمہ لڑ رہا ہے. وہ صرف ایک صحافی نہیں وہ ان ہزاروں مظلوموں کی آواز ہے جن کی چیخیں کبھی سنائی نہیں دیتیں. اس کی قلم کی روشنائی کو خون سے دھو دیا گیا، لیکن سوال باقی ہے، کیا اب بھی ریاست خاموش رہے گی؟ کیا اب بھی جو

اپنا تبصرہ بھیجیں