17

تعلیمی اداروں میں پولیس مراکز کا قیام لمحۂ فکریہ، تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے: شاہی سید

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صوبائی صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اور پولیس مراکز کا قیام تعلیمی ماحول، اداروں کے تقدس اور علمی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ جامعہ اردو وفاقی میں پولیس اسٹیشن کا قیام علم و تحقیق کے مراکز کی روح کے منافی ہے۔

شاہی سید کا کہنا تھا کہ جامعات علم، تحقیق، شعور اور فکری تربیت کے مراکز ہوتی ہیں، جبکہ پولیس اسٹیشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتظامی و سیکیورٹی امور کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، اس لیے دونوں کے دائرہ کار کو الگ رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو آزادانہ سوچ، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کا ماحول درکار ہوتا ہے، جسے سیکیورٹی مراکز کے قیام سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ دہائیوں میں تعلیمی نظام میں شعور، تحقیق اور فکری ترقی کے بجائے ایسے رجحانات فروغ پاتے رہے جن سے معاشرے میں عدم برداشت، انتہاپسندی اور تشدد نے جنم لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں منشیات کی منظم فراہمی بھی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو نوجوان نسل اور ملکی مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

شاہی سید نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں پولیس یا سیکیورٹی مراکز قائم کرنے کے بجائے منشیات کے خاتمے، جدید تعلیمی شعبہ جات کے قیام، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے جامع اور مؤثر پالیسی تشکیل دے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں صرف تعلیم، تحقیق اور مثبت فکری ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل ایک بہتر اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں