کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ میں سٹی کورٹ میں سہولیات کا فقدان اور مسائل کے حل کے لیے درخواست کی سماعت
عدالت نے کراچی بار ایسوسی ایشن،سندھ ہائیکورٹ بار،سندھ بار،سندھ حکومت، فوکل پرسن آئی جی سندھ اور دیگر سے تجاویز طلب کرلیں
سٹی کورٹس کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور دیر پا حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اجلاس کریں، جسٹس آغا فیصل
مسائل کے حل کے لیے فوری اور دیر پا حل کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے بتایا جائے، عدالت
عدالت نے حتمی تجاویز 29 مئی کو طلب کرلیں
سٹی کورٹس میں بنیادی مسائل کے حل کا اصل فائدہ جوڈیشری یا وکلا کو سائلین کو ہوگا، جسٹس آغا فیصل
سندھ حکومت بھی ہم سے الگ نہیں ہے وہ بھی ریاست کا حصہ ہیں، جسٹس آغا فیصل
ایک میکنزم بنا کر سندھ حکومت کو دینا ہے تاکہ وہ مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں، جسٹس آغا فیصل
کراچی بار ایسوسی ایشن،سندھ ہائیکورٹ بار، فوکل پرسن آئی جی سندھ، کے ایم سی،سندھ حکومت اور دیگر نے اجلاس کے بعد مسائل کے منٹس عدالت کے سامنے رکھ دئیے
سٹی کورٹس میں ہزاروں کیسز سندھ ہائیکورٹ سے منتقل کردئیے گئے ہیں، منٹس
سٹی کورٹس میں ججز اور عدالتی اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے، منٹس
جو ججز عدالتوں میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں انکو چھوٹے چھوٹے چیمبرز میں بیٹھایا گیا ہے،منٹس
جج کے پاس کمپیوٹر،پرنٹر اور اسٹینوگرافر تک نہیں ہے، مننٹس
سٹی کورٹ اور اطراف میں تجاوزات کی بھرمار ہے،تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا جائے،منٹس
سٹی کورٹس کے اندر اور اطراف میں سیوریج کا پانی جمع ہے،متعلقہ حکام کو نظام درست کرنے کا حکم دہا جائے،عامر نواز وڑائچ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن
سٹی کورٹ میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے برابر ہے،سرفراز میتلو صدر سندھ ہائیکورٹ بار
تمام اسٹیک ہولڈرز ایک بار پھر بیٹھ کر حتمی تجاویز پیش کریں تاکہ حکومت کو بجٹ سے پہلے سیکیورٹی سمیت مسائل کے حل کے لیے ہدایت جاری کریں، عدالت
عدالت میں مقررہ اسامیوں کو پر کرنے کا حکم بھی دیں گے، عدالت


