36

منشیات کیس،گرفتارانمول عرف “پنکی” کے انکشافات، پولیس پر رشوت اور سہولت کاری کے سنگین الزامات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران متعدد انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک افسر نے اس کے بھائی کو بار بار گرفتار کرنے کے بعد رشوت لے کر چھوڑ دیا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمہ کے مطابق مختلف تھانوں کی پولیس کو بھی ماہانہ لاکھوں روپے ادا کیے جاتے رہے۔

پنکی کے بیان کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے اس کے رائیڈرز کو حراست میں لے کر مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے کی رشوت وصول کی۔ ملزمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے مبینہ دباؤ کے باعث اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی پر بھی غور کیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق پنکی کے زیرِ استعمال دو موبائل سمز سامنے آئی ہیں جو “افضل” اور “صابرہ بی بی” کے ناموں پر رجسٹرڈ ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ منشیات کی ترسیل کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ رقم کی منتقلی موبائل ایپس اور مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی رہی۔

مزید انکشافات کے مطابق شناختی کارڈ بلاک ہونے کے بعد مختلف افراد کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ پنکی نے یہ بھی بتایا کہ سابق شوہر کے وکلا بھائیوں کے چیمبرز کو مبینہ طور پر منشیات چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

پولیس اور متعلقہ ادارے ان دعوؤں کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں