بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کیس، منصوبے کی تکمیل کی تاریخ طلب

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن کے لاٹ ٹو کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں منصوبے کی پیش رفت اور قانونی حیثیت پر تفصیلی دلائل دیے گئے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو اور ٹرانس کراچی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ لاٹ ٹو کا کنٹریکٹ تاحال کسی کو مکمل طور پر الاٹ نہیں کیا گیا۔
عدالت نے منصوبے کی تکمیل کی تاریخ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بی آر ٹی ریڈ لائن کب مکمل ہوگی اس پر واضح جواب دیا جائے۔ عدالت نے تاخیر پر کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی۔
کنٹریکٹر کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ سائٹ پر موجود سامان کی انوینٹری مکمل کرنے میں مزید ایک ہفتہ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سائٹ پر متعدد کنٹریکٹرز کام کر رہے ہیں اور صورتحال واضح نہیں۔
عدالت میں فریقین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جسٹس سلیم جسیر نے ریمارکس دیے کہ “دندناتے پھر رہے ہیں” سے کیا مراد ہے، جس پر وضاحت دی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اپنایا کہ سائٹ دراصل کے ایم سی کی ملکیت ہے اور معاملہ انتہائی متنازع ہے، جس پر پہلے سے ثالثی (اربیٹریشن) جاری ہے۔
ٹرانس کراچی کے وکیل نے کہا کہ لاٹ ٹو کا کنٹریکٹ تاحال کنٹریکٹر کے پاس ہے، تاہم نوٹس پیریڈ ختم ہونے کے بعد نیا کنٹریکٹ دیا جائے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مزید بتایا کہ فی الحال لاٹ ٹو پر صرف ڈرینج اور سڑک کی بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ اصل کنٹریکٹ کے حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں