کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ایف بی آر انسپکٹر پر فائرنگ کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پولیس نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق ایس پی کے بیٹے آغا شہیر کی فائرنگ سے ایف بی آر انسپکٹر زخمی ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث ملزم کے خلاف اب انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ معمولی جھگڑے کے دوران سرعام اسلحہ استعمال کیا گیا اور شہری پر فائرنگ کی گئی، جس کے باعث کیس میں دہشت گردی کے سیکشنز شامل کیے گئے۔
سہولت کاروں کی گرفتاری
پولیس نے مزید کارروائی کرتے ہوئے ملزم آغا شہیر کو فرار ہونے میں مدد دینے والے تین سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار افراد میں مظہر علی شامل ہے جس پر ملزم کو شکارپور فرار کرانے کا الزام ہے۔مزید برآں، شکارپور سے دو ملزمان آغا طاہر خان اور آغا مصدق خان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ڈیرے پر ملزم کی گاڑی چھپائی تھی۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔


