پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کے لیے تین نئے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔

لندن(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے دسمبر 2023 کے بعد پہلی مرتبہ مائع قدرتی گیس (LNG) کی خریداری کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹینڈر طلب کیے ہیں، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث رسد میں پیدا ہونے والی کمی بتائی جا رہی ہے۔کمپنی نے تقریباً 140,000 مکعب میٹر کے تین ایل این جی کارگو کے لیے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کی ہیں۔ ان کارگوز کی متوقع ترسیل 27 سے 30 اپریل، یکم سے 7 مئی اور 8 سے 14 مئی کے درمیان کراچی کی بن قاسم بندرگاہ پر ہوگی، جبکہ ٹینڈر 24 اپریل کو بند ہوگا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب پوری کرنا اور مہنگے ڈیزل و فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے۔ حکومت کو اس بات کا بھی یقین نہیں کہ قطر سے مزید کارگو کب دستیاب ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں کمی اور ایل این جی سپلائی میں رکاوٹ نے توانائی کے بحران کو مزید واضح کر دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب شپنگ پر اثرات کے باعث پاکستان کو حالیہ ہفتوں میں کوئی ایل این جی کارگو موصول نہیں ہوا۔ قطر، جو پاکستان کی توانائی درآمدات کا بڑا ذریعہ ہے، اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔آذربائیجان کی سرکاری کمپنی سوکار نے بھی پاکستان کو فوری ایل این جی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کے باعث پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کو توانائی کے چیلنجز کا سامنا رہ سکتا ہے، جبکہ گرمیوں میں بڑھتی ہوئی طلب صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں