اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر حکومت کے سامنے نہایت اہم اور سخت سوال اٹھا دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ “دیکھ لیں، یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں، اگر کل عمران خان کی صحت کو کچھ ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟”
جسٹس ارباب محمد طاہر نے واضح الفاظ میں سوال کیا کہ “اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ اس کی ذمہ داری لیں گے؟”اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ “ہم اس کی ذمہ داری لیں گے۔”ایڈووکیٹ جنرل کے اس بیان پر جسٹس خادم حسین سومرو نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “کیا یہ بات ریکارڈ پر لکھ دی جائے؟”
جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ “بالکل، یہ بات ریکارڈ پر لکھ دیں۔”عدالت میں ہونے والے اس مکالمے کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ذمہ داری لینے کا حکومتی مؤقف اس قدر واضح انداز میں عدالتی ریکارڈ پر آیا ہے۔


