اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) بدلتی ہوئی علاقائی بحری سلامتی کی صورتحال اور اہم سمندری راستوں کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پاکستان نیوی نے قومی جہازرانی اور بحری تجارت کو درپیش کثیرالجہتی خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشن محافظُ البحر کا آغاز کر دیا ہے۔
اس آپریشن کا مقصد قومی توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور سمندری مواصلاتی راستوں (Sea Lines of Communication – SLOCs) کی حفاظت کرنا ہے۔ پاک بحریہ کے مطابق جہازوں کی اسکارٹ (Escort) آپریشنز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
پاک بحریہ موجودہ بحری صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ان کے محفوظ اور پُرامن سفر کو یقینی بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اس آپریشن کا بنیادی ہدف اہم بحری راستوں کو محفوظ، مستحکم اور بلا تعطل رکھنا ہے۔
فی الوقت پاک بحریہ کے جنگی جہاز دو تجارتی جہازوں کو اسکارٹ فراہم کر رہے ہیں، جن میں سے ایک آج کراچی پہنچنے والا ہے۔
پاک بحریہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے بحری سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور قومی جہازرانی، سمندری تجارت اور علاقائی بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔


