36

عرب زمین ہمارے خلاف استعمال ہوئی تو جواب ملے گا: علی لاریجانی کا خلیجی ممالک کو سخت انتباہ

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین پر موجود فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کیے گئے تو تہران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران کا ارادہ علاقائی ممالک پر حملہ کرنے کا نہیں ہے، لیکن وہ ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے میں حق بجانب ہوگا جہاں سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اہم نکاتی موقف اپناتے ہوئے کہا:

> “امریکی اڈے عرب سرزمین نہیں بلکہ وہ ‘امریکی علاقہ’ (American Territory) تصور کیے جاتے ہیں۔”

### **ایرانی قیادت کا مشترکہ موقف**

علی لاریجانی کے ساتھ ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام نے بھی خطے کی صورتحال پر سخت بیانات جاری کیے ہیں:

* **عباس عراقچی (وزیر خارجہ):** انہوں نے اقوامِ متحدہ کو لکھے گئے خط اور میڈیا بیانات میں کہا کہ ایران کے دفاع کی کوئی حد نہیں ہے۔ انہوں نے عرب ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے بجائے امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ جنگ بندی ممکن ہو سکے، کیونکہ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی۔
* **سعید خطیب زادہ (نائب وزیر خارجہ):** انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اگرچہ ایران براہِ راست امریکی سرزمین تک نہیں پہنچ سکتا، لیکن وہ خطے میں موجود ان تمام اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو امریکی کنٹرول میں ہیں اور جہاں سے ایران کی خود مختاری پر حملے ہو رہے ہیں۔

### **علاقائی کشیدگی میں اضافہ**

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے تحت امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی جانب سے قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی جانب میزائل اور ڈرون داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف ‘دشمن کے اثاثوں’ کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم خلیجی ممالک نے ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
———
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور سفارتی بحران سے متعلق لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے لیے آزاد صحافت کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق سامنے لانے میں مدد دیتا ہے: [hrnww.com/support-us]

اپنا تبصرہ بھیجیں