**واشنگٹن/تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام اور برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی مرکزی فوجی کمان مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور ایرانی قیادت کی بڑی تعداد ماری جا چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بحریہ کے 9 جہازوں سمیت اہم عمارات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ اگر پاسدارانِ انقلاب، باقاعدہ فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں تو انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے، بصورتِ دیگر انہیں موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر نے اعتراف کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں یہ پہلی جنگ ہے جس میں امریکی فوجیوں کا جانی نقصان ہوا ہے، جبکہ وینزویلا کے صدر مادورو کو پکڑنے کے آپریشن میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے کیونکہ ایران ایک مضبوط ملک ہے، تاہم اب تک 48 اہم ایرانی شخصیات کو ختم کیا جا چکا ہے۔ سعودی عرب کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی لڑ رہے ہیں۔ صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کے سربراہان سے رابطہ کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی۔ اگرچہ وہ ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم فی الحال اس کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق تمام کارروائیاں منصوبے کے تحت ہو رہی ہیں اور اہداف کے مکمل حصول تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔
—-
عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کے لیے آزاد صحافت کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی سامنے لانے کی ہمت دیتا ہے: [hrnww.com/support-us]


