ڈھاکہ/گوپال گنج(ایچ آراین ڈبلیو) بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے دوران ضلع گوپال گنج کے صدر علاقے میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب دیسی ساختہ بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔
بنگلہ دیشی اخبار ’پروتھوم آلو‘ کے مطابق واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ریشما انٹرنیشنل اسکول میں قائم پولنگ اسٹیشن پر پیش آیا۔ دھماکے کے وقت ووٹنگ کا عمل معمول کے مطابق جاری تھا۔
پولنگ اسٹیشن پر تعینات سب انسپکٹر زاہد الاسلام کے مطابق نامعلوم افراد نے قریبی نہر کے پار سے پولنگ اسٹیشن کی جانب دیسی ساختہ بم پھینکا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو انصار اہلکار سکونتھا مجمدار اور جمال حسین زخمی ہو گئے جبکہ آرام باغ علاقے کے ایک ووٹر کی 14 سالہ بیٹی آمنہ خاتون بھی زخمی ہوئی۔
تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی کلینک منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشن اور اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے باوجود ووٹنگ کا عمل بلا تعطل جاری رکھا گیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں یہ انتخابات سیاسی طور پر نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد عوام پہلی مرتبہ نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس وقت بنگلہ دیش میں 51 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جن کے 1732 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 249 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے، جسے مبصرین کے مطابق جین زی انقلاب سے وابستہ نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بھی ایک بڑے اتحاد کے ساتھ انتخابی مہم میں سرگرم ہے۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جین زی انقلاب کے دوران شیخ حسینہ اقتدار میں تھیں اور بعد ازاں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے، خصوصاً نوجوان ووٹرز نئی قیادت سے شفاف حکمرانی، معاشی بہتری اور سیاسی استحکام کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
پولنگ کا عمل تاحال جاری ہے اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ملکی سیاست کی نئی تصویر واضح ہو سکے گی۔


