38

سانحہ گل پلازہ سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت، چیف فائر افسر نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سانحہ گل پلازہ آتشزدگی کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چیف فائر افسر نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔ چیف فائر افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کروانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ فائر بریگیڈ حکام نے سال 2021 میں گل پلازہ میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا، جس کے دوران طے شدہ ایس او پیز کے تحت فائر سیفٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سروے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں اور فائر سیفٹی انتظامات میں نقائص سے گل پلازہ کی انتظامیہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ بھی کیا گیا تھا۔

چیف فائر افسر کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران فائر بریگیڈ نے جانفشانی کے ساتھ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں حصہ لیا، تاہم افسوسناک طور پر اس دوران فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار فرقان شہید ہو گیا۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے ایک منٹ بعد یعنی 10 بج کر 27 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر موقع کے لیے روانہ کر دیا گیا تھا۔

چیف فائر افسر نے یہ بھی بتایا کہ فائر بریگیڈ حکام نے 2021 اور 2022 کے دوران آئی آئی چندریگر روڈ، شارع قائدین اور شارع فیصل پر واقع مختلف عمارتوں میں فائر سیفٹی سروے کیے تھے۔ ان سرویز کے سلسلے میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز فائر سیفٹی سے متعلق میٹنگز اور سروے کی نگرانی کرتے ہیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ محکموں کے تعاون سے شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کا عمل انجام دے رہی ہیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں