61

نوشکی جیل سے 35 قیدی فرار، سابق چیف جسٹس کے قتل کے دو ملزمان بھی شامل

بلوچستان(ایچ آراین ڈبلیو)نوشکی اور مستونگ جیلوں پر حملے کے دوران 35 قیدی فرار ہو گئے، جن میں سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل کے دو اہم ملزمان بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے متعدد اضلاع میں سرکاری عمارتوں، پولیس تھانوں اور جیلوں پر بلوچ عسکری تنظیم کی جانب سے منظم حملے کیے گئے۔ نوشکی جیل میں حملہ آوروں نے سپرنٹنڈنٹ اور اہلکار کو زخمی کرنے کے بعد جیل کے دروازے توڑے اور قیدیوں کو فرار کرایا۔ بعد ازاں جیل کو آگ لگا دی گئی۔ مستونگ جیل میں بھی اسی دن حملہ کیا گیا جس سے 27 قیدی فرار ہوئے۔

نوشکی جیل سے فرار ہونے والوں میں دہشت گردی، قتل، منشیات اور اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں نامزد قیدی شامل ہیں۔ فرار ہونے والوں میں شفقت اللہ اور حجاب الرحمان بھی ہیں، جو سابق چیف جسٹس کے قتل کے مقدمے میں گرفتار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان انتہائی خطرناک تھے اور ان کا ٹرائل کھلی عدالت کے بجائے جیل میں ہی جاری تھا۔ اس دوران وہ دیگر دہشت گردی اور اسلحہ برآمدگی کے مقدمات میں بھی نامزد تھے۔

محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق حملہ آوروں نے پوری جیل خالی کرائی اور شہر میں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، جس کے باعث شہری گھروں میں محصور رہ گئے۔ پولیس تھانے بھی آگ کی لپیٹ میں آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں