43

لوڈ مینجمنٹ پلان کے باوجود گیس بحران برقرار، شہری پریشانی کا شکار

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)شہر قائد میں لوڈ مینجمنٹ پلان مرتب کیے جانے کے باوجود گیس کا بحران جاری ہے اور تعطیل کے روز بھی گھریلو و تجارتی صارفین گیس پریشر کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

شہری علاقوں میں گیس کی کمی سے گھریلو خواتین، پکوان ہاؤس، دودھ فروش، مٹھائی اور کنفیکشنری بنانے والے شدید متاثر ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پی آئی بی کالونی، ڈی ایچ اے، گزری، لانڈھی، سعود آباد، اولڈ سٹی ایریا، صدر، پی ای سی ایچ ایس، اورنگی، گلشن معمار، کورنگی، نارتھ کراچی، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن اقبال، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، سرجانی ٹاؤن، لیاقت آباد، شاہ فیصل کالونی، ناتھا خان گوٹھ، گڈاپ، کاٹھور، لائنز ایریا، سٹی ریلوے کیمپ اور سلطان آباد شامل ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس نہ آنے کے باوجود بل آئے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مہنگی ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ میں ایل پی جی سرکاری قیمت 251 روپے کلو ہونے کے باوجود 280 سے 290 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

گیس کی لوڈ شیڈنگ رات 9:30 بجے سے صبح 6 بجے اور دوپہر 2:30 سے شام 5 بجے تک ہوتی ہے، لیکن اکثر علاقوں میں دن کے بیشتر اوقات میں گیس نہ ہونے یا کم پریشر کے ساتھ دستیاب ہوتی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کے رویے کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ذرائع کے مطابق شہر بھر میں خستہ حال ڈسٹری بیوشن انفرااسٹرکچر اور لیکیج کی وجہ سے گیس پریشر کم ہے، جو بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور فوری اقدامات کے بغیر عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں