اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر غیر ملکی مسافروں کو رقم کے عوض امیگریشن کلیئرنس میں سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 2 کروڑ روپے نقد رقم مبینہ طور پر برآمد کی گئی جبکہ دو اہلکاروں کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا بنیادی مرکز یہ الزام ہے کہ ایئرپورٹ پر بعض اہلکار مبینہ طور پر مالی لین دین کے عوض غیر ملکی مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس میں سہولت فراہم کرتے تھے۔ مبینہ طور پر فی مسافر 80 ہزار روپے تک وصول کیے جانے کے الزامات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے مبینہ نیٹ ورک کے مالی معاملات، سہولت کاری کے طریقہ کار اور اس میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تحقیقات کے دوران مزید گرفتاریوں اور شواہد سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
قانونی و انسانی حقوق کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق امیگریشن نظام میں شفافیت اور قانون کی یکساں عمل داری مسافروں کے بنیادی حقوق اور ریاستی اداروں پر اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ مبینہ بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ گرفتار یا نامزد افراد کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفافیت، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور شہریوں کے حقوق سے متعلق آزاد و ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر ذرائع سے منسوب فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ برآمدگی، گرفتاریوں اور فی مسافر مبینہ رقم وصولی سے متعلق دعووں کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالت کے فیصلے سے طے ہوگی۔ متعلقہ اہلکاروں یا اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔


