55

یورپی یونین کا امریکہ کو بڑا جھٹکا: تاریخی تجارتی معاہدہ منجمد، ٹرمپ کی دھمکیاں الٹی پڑ گئیں

**برسلز (ایچ آر این ڈبلیو):** یورپی پارلیمنٹ نے امریکہ کے ساتھ ہونے والا تاریخی تجارتی معاہدہ روک کر دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ انتہائی قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور خصوصاً گرین لینڈ سے متعلق ان کے متنازع بیانات کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔

یورپی رہنما برنڈ لانگے نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کسی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، تو ایسی صورتحال میں معمول کے تجارتی تعلقات برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو یورپی ٹیرف 15 فیصد تک محدود رکھنا تھا، جس کے بدلے میں یورپ نے امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 750 ارب ڈالر مالیت کی توانائی (گیس و تیل) خریدنے کی حامی بھری تھی۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب صدر ٹرمپ نے نیٹو میں شامل یورپ کے آٹھ ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی دھمکی دی اور انتباہ کیا کہ اگر جون تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یہ ٹیکس 25 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔ دوسری جانب ڈنمارک نے واضح الفاظ میں گرین لینڈ کی فروخت کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعے نے یورپ اور امریکہ کے دہائیوں پرانے تعلقات کو شدید ترین خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں