سکھر(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے میرپور ماتھیلو میں شہید ہونے والے صحافی طفیل رند کے قتل کیس میں پولیس کی مبینہ غفلت اور ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی کو اگلی پیشی پر ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔
جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے صحافی طفیل رند قتل کیس کے نامزد ملزمان کی عدم گرفتاری سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ شبیر علی خان بوزدار نے عدالت کو بتایا کہ 8 اکتوبر 2025 کو صحافی طفیل رند کو اُس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب وہ بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے۔
وکیل شبیر علی بوزدار نے بتایا کہ گھوٹکی پولیس مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان — خلیل احمد، الیاس، عبدالحفیظ، وحید اور صدام حیدرانی — کو تاحال گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ ملزمان آج بھی سرعام گھوم رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث شہید صحافی کے اہلخانہ کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
عدالت نے پولیس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی کو سخت ہدایات دیں اور حکم دیا کہ صحافی طفیل رند کے قتل کیس کے تمام نامزد ملزمان کو 18 دسمبر تک ہر صورت گرفتار کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔


