89

پنجاب بسنت بہاراں / 25سال بعد پنجاب میں پتنگ بازی کی بہار لوٹ آئی

لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کےدستخطوں سےبسنت منانے کی مشروط اجازت دینے کا آرڈیننس جاری کردیا گیا،آرڈیننس کے تحت بسنت کے لئے شرائط مقررکی گئی ہیں،خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

آرڈیننس کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے،خلاف ورزی پر والد یا سر پرست ذمہ دار ہوگا،صرف دھاگے سےبنی ڈورسےہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی،دھاتی یاتیزدھارمانجھے سے بنی ڈور کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

قانون کی خلاف ورزی پرکم ازکم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکے گی،ضلع کے اندر ہر موٹر سائیکل متعین کردہ حفاظتی تدابیر کے مطابق چلایا جائے گا،مشکوک مقام یا مکان کی تلاشی کا حق بھی دیا گیا ہے، جرم ناقابل ضمانت ہوگا

اٹھارہ سال سےکم عمر بچوں کےقانون کی پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار،دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،عدم ادائیگی جرمانہ پروالد یا سرپرست کےخلاف کارروائی عمل میں آئےگی،پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنزمتعلقہ ضلع کےڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹرکی جائیں گی۔

قانون کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے والے (Whistle blower) کی قانونی طور پر حوصلہ افزائی کی جائےگی،پتنگیں رجسٹرڈدکانداروں سےہی خریدی جائیں گی ،ہررجسٹرڈ دکاندارکوایک کیوآرکوڈ سے منسلک کیا جائے گا،پتنگ پر بھی کیو آرکوڈہوگاجس سےپتنگ بیچنےوالےکی شناخت ہوسکےگی،ڈور بنانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہو گی، کیو آر کوڈ سے ان کی بھی شناخت ہو گی۔

وزیراعلی مریم نواز شریف نےتین دہائیوں کے بعد پنجاب کے مختلف روایتی ثقافتی و تہذیبی روایات اور تہواروں کا دوبارہ آغازکیا ہے۔

پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی لگی تھی،پچیس سال بعد پتنگ بازی کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔
لاہور : پنجاب حکومت نے بسنت منانیفیصلہ کر لیا۔خونی کھیل کے باعث چالیس روز قبل لاہور میں اکیس سالہ نوجوان موت کے گھاٹ اتر گیا،جاں بحق ہونے کے چالیس روز بعد پنجاب کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 جاری ہوگیا۔کائٹ فلائینگ آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں پتنگ بازی ڈپٹی کمشنرز کی اجازت سے مشروط ہو گئی جب کہ پتنگ سازی اور پتنگ فروخت کے لئے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار ہوگا، پتنگ باز تنظیموں کیلئے رجسٹریشن بھی کروانا ہوگی۔آرڈیننس میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کروانے کے بعد پتنگیں بنانے اور فروخت کرنے کا لائسنس ہوگا، 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا،نیا آرڈیننس حکومت اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ مخصوص مقامات، مخصوص دنوں، اور مقررہ وقت اور غیر خطرناک مواد کے ساتھ محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں، مگر غیر خطرناک مواد کی آرڈیننس میں تشریح ہی نہ کی گئی ہے۔پنجاب حکومت کے آرڈیننس میں پولیس کے بے پناہ اختیارات دیے جا رہے ہیں جس کے مطابق سب انسپکٹر رینک کا پولیس افسر بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گا اور اْسے کسی بھی مقام پر داخل ہو کر سرچ کرنے کے اختیارات حاصل اور ممنوعہ سامان قبضے میں لے سکے گا۔علاوہ ازیں حکومت ضرورت پڑنے پر کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہی اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں