اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کی اہم شخصیت کے کم عمر بیٹے نے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے الیکٹرک اسکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کو کچل دیا۔
واقعہ گزشتہ رات تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی انتہائی تیز رفتاری سے آ رہی تھی اور ٹکر اتنی شدید تھی کہ اسکوٹی کئی فٹ دور جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں دونوں لڑکیاں، جن کی عمریں 25 اور 27 سال بتائی گئی ہیں، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق ملزم کی شناخت **ابوذر ولد جسٹس محمد آصف** کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ حادثے کے وقت ملزم سوشل میڈیا ایپ **اسنیپ چیٹ** پر ویڈیو بنا رہا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ ملزم کی تاریخ پیدائش جولائی 2009 ہے اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ موجود نہیں تھا۔
پولیس نے ملزم ابوذر کو گرفتار کر کے گاڑی تحویل میں لے لی اور آج مقامی عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے 4 روزہ ریمانڈ منظور کیا۔
ریمانڈ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والی ایک لڑکی **نیشنل کالج آف آرٹس (NCA)** میں انٹیریئر ڈیزائنر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حادثے کے فوراً بعد ملزم نے اپنا موبائل فون پھینک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل فون برآمد کر کے اس میں موجود ویڈیو کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ حادثے کے حالات واضح ہو سکیں۔
مزید بتایا گیا کہ ملزم کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے گا، حادثے کی جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جائے گی، اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ واقعے کے وقت ملزم اکیلا تھا یا کسی اور کے ساتھ موجود تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا مستقل پتہ کوئٹہ کا ہے، اور اس کے خلاف غفلت، لاپرواہی اور تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔


