89

لاہور پولیس ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر بیوی بیٹی لاپتہ کیس نیا رُخ اختیار کر گیا

لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) ڈی ایس پی کی سالی تہمینہ شوکت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو درخواست دی جس میں DSP پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی بیوی و بیٹی پر تشدد کرتے تھے

درخواست گزار نے DSP پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو مار دیا جبکہ اپنی بیٹی کو چھپا دیا ہے

تہمینہ مطابق وہ انصاف لیے ہر ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی مگر ابھی تک انصاف نہ مل سکا

انہوں نے وزیر اعلی کو بتایا کہ تھانہ برکی کا ایس ایچ او اور ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر انہیں چپ رہنے لیے دباؤ ڈال رہے اور جعلی انکاؤنٹر میں مار دینے کی دھمکیاں دے رہے

درخواست گزار نے وزیر اعلیٰ سے ڈی ایس پی خلاف ایکشن لینے اور اپنی بہن و بھانجی کی بازیابی کی بھی استدعا کی ہے

دوسری جانب تہمینہ شوکت نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کر دی جس میں انہوں نے آئی جی پنجاب کو فریق بنایا

پٹیشنز نے عدالت کو بتایا کہ وہ پولیس پاس اپنی لاپتہ بہن و بھانجی کی بازیابی لیے درخواست لے کر متعدد بار گئی مگر پولیس انکی مدد نہ کررہی

انہوں نے عدالت سے آئی جی پنجاب خلاف ایکشن لینے کی اپیل کی ہے

واضع رہے ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے تھانہ برکی میں اپنی بیوی و بیٹی کے “لاپتہ” ہونے کے 23 دن مقدمہ درج کروایا کہ کوئی نامعلوم افراد انکی بیوی و بیٹی کو اغواء کر کے لے گئے

جبکہ میڈیا میں یہ بھی تائثر دیا جارہا کہ لاہور کے ڈان طیفی بٹ کا دوبئی سے گرفتار کر کے کراچی لانے میں ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کا اہم کردار ہے جس وجہ سے انکو سزاء دینے لیے انکی بیٹی و بیوی کو اغواء کیا گیا

تاہم ان خبروں میں تاحال سچائی سامنے نہ آسکی

اپنا تبصرہ بھیجیں