کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے ہونے والے اہم اجلاس میں صوبے بھر میں 6 لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹرز کے انکشاف کے بعد سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبے میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 4 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ صرف کراچی میں 2 لاکھ 40 ہزار عطائی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں۔
وزیر صحت نے واضح کیا کہ “عوام کی جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد ہوگا اور کوئی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پولیس اور ڈپٹی کمشنرز کو غیر قانونی عطائی ڈاکٹرز، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس اور کلینکس کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔
حاملہ خواتین کی لازمی اسکریننگ، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس کی بندش اور اسپتالوں کے میڈیکل ویسٹ کے محفوظ انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔


