کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سول اسپتال کراچی میں سرکاری کوارٹرز کے ناجائز استعمال اور کرایہ داری کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپتال کے سرکاری کوارٹرز نمبر 44، 45، 47، 77 اور 80 سمیت متعدد مکانات اور کمروں کو مبینہ طور پر کرائے پر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان سرگرمیوں کی نگرانی ڈاکٹر وقار عباسی اور امجد لودھی کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر ان مکانوں سے کرایہ وصول کر کے ذاتی مفاد حاصل کر رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر وقار عباسی اپنے من پسند افراد کو کنٹریکٹ پر بھرتی کر رہے ہیں، جنہیں 45 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار عباسی کا بھائی سعید عباسی بھی اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ایک لاکھ روپے ماہانہ وصول کر رہا ہے۔ اسپتال کے اندر رشوت ستانی اور اقربا پروری کے بڑھتے واقعات نے عملے اور انتظامیہ کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کراچی کی انتظامیہ نے راجہ مینشن بلڈنگ کے سرکاری فلیٹس پر غیر قانونی قبضے کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے حتمی بے دخلی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ فلیٹس پر بعض افراد نے بغیر کسی باضابطہ اجازت کے قبضہ کر رکھا ہے اور انہیں ہسپتال کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرائے پر بھی دیا گیا ہے۔ یہ عمل سرکاری جائیداد پر غیر مجاز قبضے کے زمرے میں آتا ہے۔انتظامیہ کے مطابق متعدد بار بے دخلی کے نوٹسز جاری کیے جانے کے باوجود قابضین نے جگہ خالی کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔
112


