لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن عملے نے دو مسافروں سے مالی مطالبہ کیا۔
واقعے کی صحیح تفصیلات:
مورخہ 6 اکتوبر 2025 کو شایان ودان اور ارحم عتیق نامی دو شہری ملائیشیا کے وزٹ ویزا پر سفر کرنے ایئرپورٹ پہنچے
امیگریشن افسران نے معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ مسافروں کے پاس وزٹ ویزا کی ضروری دستاویزات مکمل نہیں تھیں
قواعد و ضوابط کے تحت دونوں مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا
عدالتی کارروائی:
مسافروں کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن لاہور ہائی کورٹ میں خارج ہو چکی ہے، جہاں عدالت نے ایف آئی اے کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے مسافروں کو ضروری دستاویزات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
ایف آئی اے کا مؤقف:
ایجنسی کے ترجمان کے مطابق:
ایف آئی اے روزانہ 18 سے 20 ہزار مسافروں کی امیگریشن کرتی ہے
ادارے کا مینڈیٹ امیگریشن قوانین کی پاسداری، دستاویزی درستگی اور غیرقانونی ہجرت کی روک تھام ہے
ادارہ شفافیت پر یقین رکھتا ہے اور کرپشن کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کرے گا
ادارے نے مسافروں کو دوبارہ ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کے دفتر طلب کیا ہے تاکہ معاملے کی مکمل طور پر جانچ پڑتال کی جا سکے۔


