لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے آج تبلیغی جماعت کے مرکزی شوریٰ ارکان کے ایک وفد سے خصوصی ملاقات کی۔ وفد میں ڈاکٹر ندیم اشرف، مولانا امجد فاروق، مولانا محمد امیر، امتیاز احمد غنی اور قاری محمد ارشد شامل تھے۔
رائے ونڈ اجتماع کے لیے تاریخی اقدامات:
ٹرانسپورٹ کے جدید انتظامات: وزیراعلیٰ نے رائے ونڈ اجتماع کے شرکا کے لیے تین دن تک خصوصی الیکٹرو بس سروس چلانے کا اعلان کیا۔ یہ بسیں ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے سے براہ راست رائے ونڈ تک سروس فراہم کریں گی۔
انفراسٹرکچر کی فوری بہتری: اجتماع سے قبل رائے ونڈ جانے والے تمام اہم راستوں پر فوری پیچ ورک، نیز تین اہم سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے احکامات جاری کیے گئے۔
صفائی اور ماحول کی خوبصورتی: یکم نومبر سے اجتماع کے اختتام تک خصوصی صفائی مہم چلائی جائے گی، جبکہ رائے ونڈ میں عرق گلاب کے چھڑکاؤ کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
نگرانی کے سخت اقدامات: وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر، سی سی پی او، ڈی آئی جی اور سی ٹی او کو ہدایت کی کہ وہ خود رائے ونڈ جا کر تمام انتظامات کا جائزہ لیں اور انہیں بہتر بنائیں۔
تبلیغی جماعت کی جانب سے خراج تحسین:
تبلیغی جماعت کے اکابرین نے وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے ان اقدامات کی خاص طور پر تعریف کی:
الیکٹرو بس منصوبے کے آغاز اور پنجاب بھر میں 90 ہزار گھر بنانے کے منصوبے کو “قابل تحسین” قرار دیا۔
شہروں اور دیہات میں چلائی جانے والی صفائی مہمات کی تعریف کی۔
سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے قومی اداروں کا سہارا نہ لینے کو “قابل ستائش عمل” بتایا۔
کہا کہ “عوام کا تاثر بدل رہا ہے اور عوام خدمت کے کام خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔”
وزیراعلیٰ کے تاثرات:
محترمہ مریم نواز شریف نے ملاقات کے دوران کہا:
“پی ایم ایل این مخلوق خدا کی خدمت، خالق کائنات کی عبادت کے جذبے سے کرتی ہے۔”
“ہم صدق دل سے، صرف رضائے الٰہی کے جذبے سے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے مخالفین کے بارے میں کہا، “مخالفین کی باتوں پر صبر کرتی ہوں، لیکن بعض اوقات عوام کے لیے بولنا ضروری ہوتا ہے۔”
دعا کی درخواست:
وزیراعلیٰ نے تبلیغی جماعت کے اکابرین سے ملک و قوم کی سلامتی، امن و امان کے قیام اور سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی دعا کرنے کی درخواست کی۔
یہ ملاقات حکومت پنجاب اور دینی حلقوں کے درمیان مثبت تعاون اور باہمی احترام کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جس کا مقصد عوامی بہبود اور بہتر انتظامی خدمات یقینی بنانا ہے۔


