لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) ہائیکورٹ میں گھروں میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے دو شیروں کو وائلڈ لائف کے حوالے کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف سے اس حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
عدالتی استفسارات اور اہم انکشافات:
جسٹس علی ضیا باجوہ کی سربراہی میں بینچ نے پوچھا کہ پنجاب کے گھروں میں کل کتنے شیر رکھے گئے ہیں؟
سرکاری وکیل کے مطابق، صوبے بھر میں شہریوں کے پاس تقریباً 580 شیر ہیں، جن کے لائسنس بھی دیے گئے ہیں۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا محض 5 مرلے کے مکان میں 2 شیر رکھے جا سکتے ہیں؟ عدالت نے خود ہی واضح کیا کہ ایک شیر کو رکھنے کے لیے کم از کم 22 مرلے کی جگہ درکار ہوتی ہے۔
تاہم، ایک وائلڈ لائف آفیسر کے متناقض بیان کے مطابق، “ایک پنجرے میں 2 شیر رکھے جا سکتے ہیں۔”
عدالت کی تشویش اور محکمے کے دعوے:
عدالت نے پوچھا کہ کیا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر جرمانہ عائد ہوتا ہے؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ جرمانہ بھی کیا جاتا ہے اور قانونی کارروائی بھی ہوتی ہے۔
زیر بحث دونوں شیر فی الحال لاہور اور فیصل آباد کے وائلڈ لائف سنکچوریز میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔
عدالت کے استفسار پر محکمے کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان شیروں کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کی خوراک کا بھی خاص انتظام ہے۔
عدالت نے شیروں کو شہری علاقوں میں رکھنے کے حوالے سے موجودہ قوانین، لائسنسنگ کے طریقہ کار اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس معاملے پر اگلی سماعت تک محکمہ وائلڈ لائف کو درخواست میں شامل کیے گئے شیروں کے حوالے سے اپنے ایس او پیز عدالت میں پیش کرنے ہوں گے۔


