اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بنچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران لائیو سٹریمنگ کی درخواست منظور کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔
فیصلے کی تفصیلات:
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے مشاورت کے بعد لائیو سٹریمنگ کی درخواست منظور کر لی۔ اب اس اہم آئینی مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی جائے گی۔
عدالتی کارروائی کے اہم مواقف:
جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل نے لائیو سٹریمنگ کی درخواست پیش کی
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ “پہلے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق درخواست پر فیصلہ ہونے دیں”
خواجہ حسین احمد نے کہا کہ “پوری قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ عدالت میں کیا ہو رہا ہے”
عدالت کے اراکین کے تاثرات:
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ “ہمارا المیہ ہے کہ ہم ہر چیز کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے لائیو سٹریمنگ سے لوگوں کو تعلیم دینا چاہی، لیکن ہم لائیو سٹریمنگ سے ایکسپوز ہوگئے۔”
حکومتی موقف:
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ “لائیو سٹریمنگ ایڈمنسٹریٹیو سائڈ پر ہوتا ہے”، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ “یعنی بنچ جو فیصلہ کرلے اس پر راضی ہیں۔”
اگلی سماعت:
عدالت نے سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ یہ فیصلہ عدالتی شفافیت کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے جس سے عوام کو براہ راست عدالتی کارروائی دیکھنے کا موقع ملے گا۔


