اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کے اہم مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران ٹیکس اصلاحات، ریونیو اہداف، اور معاشی پالیسیوں پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پالیسی سطح کے مذاکرات میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں ٹیکس نادہندگان اور گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی تیاریوں پر بریفنگ دی جا رہی ہے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائی 16 اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔
مزید بتایا گیا کہ مذاکرات میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے، زیر التوا ٹیکس مقدمات کے حل اور ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کو پانچ سالہ نئی ٹیرف پالیسی (2025-2030) سے متعلق بریفنگ بھی دی جا رہی ہے، جس کے تحت درآمدی ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کی جائے گی تاکہ برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکے۔
مذاکرات میں حالیہ سیلابوں کے معیشت پر اثرات، شرحِ نمو میں کمی، ٹیکس اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ریکوڈیک کاپر اینڈ گولڈ مائن پروجیکٹ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی — جس کی کل لاگت 4.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.72 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔


