92

پی ٹی آئی رہنما فلک جاوید کا جسمانی ریمانڈ مزید 4 دنوں کے لیے بڑھا

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریاست مخالف مواد آن لائن شیئر کرنے کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار دنوں کی توسیع کر دی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں منعقدہ سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے دلیل دی کہ ملزمہ کے تین لاکھ 79 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، اور انہوں نے کے پی اور بلوچستان کے حساس حالات کے دوران ٹویٹس کے ذریعے انتشار پھیلایا۔ این سی سی آئی اے نے موبائل ڈیوائسز کی تفتیش کے لیے ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی۔

وکیل این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ’’ملزمہ اگر کلیئر ہیں تو اپنی سوشل میڈیا آئی ڈی اور پاس ورڈ عدالت کے حوالے کر دیں۔‘‘

ملزمہ کے وکیل کی دلیل:
فلک جاوید کے وکیل رانا عبدالمعروف نے الزام لگایا کہ این سی سی آئی اے نے جھوٹے بیانیے پر مبنی مقدمہ درج کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایف آئی آر میں 6 افراد کے نام ہیں، لیکن فلک جاوید کو نامزد تک نہیں کیا گیا۔ انہیں صرف ان کی بہن صنم جاوید کے تعلقات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’این سی سی آئی اے نے 9 دن کے ریمانڈ کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں دکھائی ہے اور نہ ہی موبائل ڈیوائسز برآمد کی گئی ہیں۔‘‘

عدالت کا فیصلہ:
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے این سی سی آئی اے کی درخواست تسلیم کرتے ہوئے فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کر دی۔ ملزمہ کو 8 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے فلک جاوید کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کرچکی ہے، جس میں ان پر ریاست مخالف اور حساس مواد شیئر کرنے کے الزامات عائد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں