88

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت و غیر ملکی سرمایہ کاری کا تاریخی اجلاس

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت پاکستان کی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی اعلیٰ قیادت اور سلامتی کے اداروں کی نمایاں نمائندگی شامل تھی۔

اعلیٰ سطحی شرکاء کی شرکت

اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف)، لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک (ڈائریکٹر جنرل انٹر-سروسز انٹیلی جنس) اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مoeed یوسف نے شرکت کی، جس سے ملکی معاشی استحکام کے حوالے سے یکسوئی کا واضح اشارہ ملا۔

معیشت کو مضبوط بنانے کا عزم

اجلاس میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے درج ذیل اہم ہدایات جاری کیں:

پہلی ترجیح: “پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔”

نجی شعبے کا کردار: “نجی شعبے کو معیشت میں مکمل طور پر شامل کیا جائے گا اور ان کے کردار کو یقینی بنایا جائے گا۔”

سرمایہ کاروں کی سہولیات: “متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرتے ہوئے تمام رکاوٹیں دور کریں۔”

اعتماد کی علامت: “معیشت میں ابھرتا ہوا مثبت رجحان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضح علامت ہے۔”

سرمایہ کاری کے لیے نئی پالیسی کا اعلان

وزیراعظم نے ایک واضح حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:

“شفافیت، بین الاقوامی معیار کے مطابق پالیسی سازی اور فوری عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کا مرکز بنایا جائے گا۔”

“حکومت کی کوشش ہے کہ سرمایہ کاری کے ان مواقع کو عوامی فلاح و بہبود اور روزگار میں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے۔”

“جاری اقتصادی اور مالیاتی اصلاحات سے معیشت کو نئی سمت ملی ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔”

ترجیحی شعبوں پر توجہ

اجلاس میں توانائی، انفرااسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ تجارت کے فروغ کو بھی اس پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔

اس اجلاس سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور قومی ادارے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے متحدہ طور پر پرعزم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں