115

عطائی ڈاکٹربلال،انسانیت کا دشمن، درندہ صفت قاتل، محکمہ صحت کے کرپٹ گماشتے بے نقاب

فیصل آباد(ایچ آراین ڈبلیو)فیصل آباد کی سرزمین پر ایک ایسا خونخوار بھیڑیا ’’عطائی ڈاکٹر بلال‘‘ کے نام سے دندناتا پھر رہا ہے جو انسانی جانوں کا بدترین دشمن بن چکا ہے۔ یہ درندہ معصوم شہریوں کو علاج کے نام پر موت کے گھاٹ اتار رہا ہے اور ریاستی قوانین کا کھلے عام مذاق اڑا رہا ہے۔

ایف آئی آر کے باوجود موت کا اڈا دوبارہ آباد!

21 مئی 2025 کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے تھانہ بٹالہ کالونی میں اس عطائی ڈاکٹر بلال کے خلاف ایف آئی آر نمبر 894/25 درج کر کے کلینک سیل کیا، لیکن یہ بے ضمیر قاتل ریاست کی رٹ کو روندتے ہوئے دوبارہ اپنا ’’موت کا اڈا‘‘ کھول کر بیٹھ گیا۔

جعلی ڈگری، جھوٹے دعوے، مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ!

اس بدکردار شخص کے پاس میٹرک کی سند تک نہیں، مگر دھوکے سے خود کو ’’بی ڈی ایس ڈاکٹر‘‘ ظاہر کرتا ہے۔ پیپلز کالونی نمبر 2 نزد غوثیہ چوک میں قائم ’’بلال ڈینٹل کلینک‘‘ اسپتال نہیں بلکہ ایک قبرستان ہے جہاں ہر مریض زندگی ہار کر واپس لوٹتا ہے۔

بیماریوں کا گڑھ – ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا جراثیمی گودام!

یہ کلینک دراصل بیماریوں کی فیکٹری ہے۔ استعمال شدہ آلے دوبارہ مریضوں پر لگا کر ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے مہلک امراض پھیلا رہا ہے۔ جعلی اور زہریلی ادویات دے کر مریضوں کو آہستہ آہستہ موت کی اندھی کھائی میں دھکیل رہا ہے۔

محکمہ صحت – قاتلوں کا سہولت کار مافیا!

اس سانحے کا سب سے مکروہ کردار محکمہ صحت ہے، جس کے کرپٹ افسران عوام کے محافظ نہیں بلکہ قاتلوں کے سرپرست ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی ڈی ایچ او فیصل آباد باقاعدگی سے اس عطائی سے منتھلی وصول کرتا ہے۔ عوام کا خون نچوڑ کر اپنی جیبیں بھرنا ہی ان کا اصل مشن ہے۔

عوامی طوفان – حکمرانوں کو للکار!

اہل علاقہ پھٹ پڑے اور اعلان کیا:

’’بلال ڈینٹل کلینک‘‘ کو فوری طور پر مسمار کیا جائے۔

عطائی بلال کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔

محکمہ صحت کے کرپٹ گماشتوں کو کٹہرے میں لا کر نشانِ عبرت بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں