72

’سندھو پر دریا نامنظور‘، پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، بلاول زرداری کا دودھاری خطاب

گڑھی خدا بخش (ایچ آراین ڈبلیو) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ پاکستان تو کیا عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، عالمی دنیا کو منایا کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مشرف کے متنازع یکطرفہ کینالز کے فیصلے ہوں، یا عمران خان کے یکطرفہ متنازع فیصلے ہوں، پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن یہ جدوجہد کرتے ہوئے بوڑھے ہو گئے کہ سندھو پر دریا نامنظور۔

خطاب شروع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ ہر سال کی طرح ہم گڑھی خدا بخش میں جمع ہو کر قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور کارکنان نے یہ علم بلند رکھا ہے، ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے علم بردار ہیں اور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے 46 سال کے لیے یہ جدوجہد جاری رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدرآصف زرداری نے ایک اور وعدہ گڑھی خدابخش کے ساتھ نبھایا ہے،صدر زرداری نے اس سے پہلے صدارتی ریفرنس کے ذریعے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلوایا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ صدر زرداری نے اپنی کامیابیوں سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ فیصلہ کہ پیپلزپارٹی کی قیادت صدر زرداری کو دی، اور وہ انہوں نے وہ ذمہ داری ادا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بی آئی ایس پی کے ذریعے غربت کے خاتمے کا وعدہ پوراکررہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک انقلابی فیصلہ کیا، وہ روایت چھوڑ کو اپنی بیٹی کو سیاسی جانشین بنایا، آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کا پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ میں وہ کردار رہا ہے کہ جو اسلام کی تاریخ میں بی بی زینب کا کردار تھا، بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کا نام اور ان کا مشن جاری رکھا، مزید کہنا تھا کہ وہ بھٹو، بھٹو کرکے سب کو بھٹو بنا گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر اپنی سیاسی منزل طے کرتے ہیں، ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جہدوجہد اور کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، انہوں نے آئین، ایٹم بم کا تحفہ دیا، جمہوریت دی، مزدور کے حقوق دیے، کسانوں کے حقوق دیے، عوام کو ترقی دلوائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں